سوال

ہمارااینٹوں کا بھٹہ ہے،ہمارے پاس ایک شخص آتاہے اور بغیر دیکھے اینٹوں کاسودہ کر لیتاہےیعنی کہتا ہے کہ 5ہزاراول نمبر اینٹ بھیج دو ہم اینٹوں کی ٹرالی بھیج دیتے ہیں ،جب وہ اینٹیں وصول کرلیتا ہے،اس وقت ہمیں پیسے دے دیتاہے توکیا ہمارااس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

درست ہے،البتہ خریدنے والے کو اختیار ہےکہ اینٹ پسند ہوتو لےلےورنہ لوٹادے۔

لمافی الفقہ السلامی وادلتہ:(5/3579،رشیدیہ)
أجاز الحنفیۃ خیار الرؤیۃفی شراء مالم یرہ المشتری ولہ الخیار إذارآہ:ان شاءأخذالمبیع بجمیع الثمن وإن شاء ردّہ وکذا أذا قال رضیت ثم رأہ لہ ان یردہ
وکذافی الھندیة:(3/58،رشیدیہ)
من اشتری شیٔا لم یرہ فالبیع جائزولہ الخیار أذا رأہ ان شاء أخذہ بجمیع الثمن وإن شاء ردہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/121،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(6/42،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(9/98،فاروقیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(3/26،رحمانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الخنفی :(360،البشری)
وکذافی الھدایة:(3/40،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11،8،1443/2022،3،15
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:188

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔