الجواب حامداومصلیا
اکاؤنٹ میں محض پیسے رکھنے پر جو پیسے ،منٹ،ایس ایم ایس یا ایم بی وغیرہ ملتے ہیں ،ان کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ۔کیونکہ یہ قرض پر سود لینے کی طرح ہے ،البتہ جو پیسے ،منٹ ،ایس ایم ایس یا ایم بی رقم کی ٹرانزیکشن یا لوڈ خریدنے پر ملتے ہیں ،ان کا استعمال جائز ہے۔
لما فی الشامیة:(7/413 ،رشیدیہ)
قولہ:( کل قرض جر نفعا حرام) أی :اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وإن لم یکن النفع مشروطا فی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/351،دار إحیا )
قال محمد فی کتاب الصرف أن ابا حنیفۃ کان یکرہ کل قرض جر منفعۃ،قال الکرخی ھذا إذا کانت المنفعۃ مشروطۃ فی العقد ۔۔۔۔۔۔فإن لم تکن المنفعۃ مشروطۃ فأعطاہ المستقرض أجود مما علیہ ،فلا بأس بہ۔
وکذا فی سورةآل عمران:(آیت،275)
وکذا فی اعلاء السنن:(14/512،ادارة القرآن )
وکذا فی الھدایة:(3/82،رحمانیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(ا4/30،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(3/102،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/204،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،3،19
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:30