سوال

جاز کیش کمپنی کی طرف سے یہ پیغام آتا ہے کہ آپ فلاں تاریخ تک اپنے موبائل اکاؤنٹ میں بینک اکاونٹ یاجاز کیش اکاؤنٹ سے 50 روپے سے زائد رقم جمع کروائیں اور فوری 50روپے حاصل کریں۔اسی طرح یہ میسج آتا ہے کہ آپ اپنے اکاونٹ سے 1000 سے زائد رقم نکلوائیں اور اگلے دن 500منٹ SMSاورMB پائیں ۔ اب کوئی آدمی اپنی ضرورت کےلیےرقم جمع کراتا ہے یا نکلواتا ہے اور اسے پیسے منٹ SMSیا MB دے دیے جاتے ہیں، تو ان کے استعمال کا شرعا کیا حکم ہے؟اوراگر کوئی آدمی پیسے اور منٹ وغیرہ حاصل کرنے کےلیے رقم جمع کراتا یا نکلواتا ہے ،تو اس صورت میں پیسے اور منٹ وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

 

اکاؤنٹ میں محض پیسے رکھنے پر جو پیسے ،منٹ،ایس ایم ایس یا ایم بی وغیرہ ملتے ہیں ،ان کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ۔کیونکہ یہ قرض پر سود لینے کی طرح ہے ،البتہ جو پیسے ،منٹ ،ایس ایم ایس یا ایم بی رقم کی ٹرانزیکشن یا لوڈ خریدنے پر ملتے ہیں ،ان کا استعمال جائز ہے۔

 

لما فی الشامیة:(7/413 ،رشیدیہ)
قولہ:( کل قرض جر نفعا حرام) أی :اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وإن لم یکن النفع مشروطا فی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/351،دار إحیا )
قال محمد فی کتاب الصرف أن ابا حنیفۃ کان یکرہ کل قرض جر منفعۃ،قال الکرخی ھذا إذا کانت المنفعۃ مشروطۃ فی العقد ۔۔۔۔۔۔فإن لم تکن المنفعۃ مشروطۃ فأعطاہ المستقرض أجود مما علیہ ،فلا بأس بہ۔
وکذا فی سورةآل عمران:(آیت،275)
وکذا فی اعلاء السنن:(14/512،ادارة القرآن )
وکذا فی الھدایة:(3/82،رحمانیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(ا4/30،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(3/102،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/204،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،3،19
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:30

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔