سوال

ہم سناروں کےپاس کسٹمرسونےکازیورفروخت کرنے کیلئےلاتے ہیں۔ اس میں کھوٹ ہوتا ہےہم اندازہ لگا کروہ خریدتےہیں بسااوقات کھوٹ اندازےسے کم نکلتا ہے،بسااوقات اندازے کےبقدراور بسااوقات اندازےسےزائدبھی نکلتا ہے۔نتیجےمیں کبھی بچت زیادہ ہوتی ہے،کبھی معاملہ برابرہوجاتاہےاورکبھی نقصان بھی ہوجاتا ہے۔یہ جائزہےیا نہیں؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

جائز ہے۔

لمافی المبسوط:(14/25،بیروت)
وان اشتری خاتم فضۃاوخاتم ذھب فیہ فص او لیس فیہ فص بکذافلوسا،ولیست الفلوس عندہ فھوجائزان تقابضاقبل التفرق اولم یتقابضالان ھذابیع ولیس بصرف
وفی الھندیة:(3/224،رشیدیة)
وان اشتری خاتم فضۃاوخاتم ذھب فیہ فص او لیس فیہ فص بکذافلوسا،ولیست الفلوس عندہ فھو جائز ان تقابضا قبل التفرق اولم یتقابضالان ھذابیع ولیس بصرف
وکذافی عمدۃالرعایةعلی ھامش شرح الوقایة:(88،رحمانیة)
وکذافی فقہ البیوع:(2/762،مکتبةمعارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26-07-1443/2022-02-28
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:15

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔