سوال

بندہ ایک سیکورٹی کمپنی میں مینجراکاؤنٹس کی حیثیت سےکام کررہا ہےہماری کمپنی مختلف اداروں کوجس میں سرکاری،غیرسرکاری اداروں کوسیکورٹی گارڈزفراہم کرتی ہے۔پاکستان پوسٹ کے ایک ریجن کا ہمیں کنٹریکٹ ملاجس میں ایک ذیلی ادارہ پوسٹل لائف انشورنس ہےجس میں ہم چارپانچ ماہ سےسیکورٹی گارڈزسروسزفراہم کررہےہیں۔بعدازاں ہمیں معلوم ہواکہ پوسٹل لائف انشورنس کےمعاملات پاکستان پوسٹ سے علیحدہ ہیں۔ہم نے اس سوال کے ساتھ اس کی کچھ تفصیل اٹیچ کی ہےبراہ کرم ہماری اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ پوسٹل لائف انشورنس میں سیکورٹی سروسزجاری رکھنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

سوال کے ساتھ منسلک تفصیل سےتو یہ سمجھ آرہا ہےکہ یہ ادارہ ”انشورنس “کرتا ہےاگر یہ بات ٹھیک ہے توجواب یہ ہےکہ مروجہ انشورنس چونکہ حرام ہے اس لیےاس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہےاور یہ لوگ اسی حرام آمدن میں سے آپ کے واجبات ادا کرینگےلہذاان کوسیکورٹی گارڈز مہیا کرنا جائز نہیں۔

لمافی القرآن الکریم:(المائدۃ،2)
ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان
وفی احکام القرآن للجصاص(2/429،قدیمی)
وقولہ تعالی:(ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان)نھی عن معاونۃ غیرناعلی معاصی اللہ تعالی
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3817،رشیدیة)
“لایجوزاستئجار علی المعاصی کاستئجارالانسان للعب واللھوالمحرم …..لانہ استئجارعلی المعصیۃ،والمعصیۃلاتستحق بالعقد.”
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(16/511،فاروقیة)
وفی الذخیرۃ :قال شمس الائمۃ:ھذہ المسئلۃ ذکرھشام بتمامھافی نوادرہ عن محمدرحمہ اللہ(1)احدوجوھھاان یشتری شیئابعین الدراھم فیھا خبث،ویضیف العقدالیھاوینقدمنھا،ففی ھذاالوجہ المشتری لایحل لہ
وکذافی المبسوط:(16/37،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(3/429،بشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/39،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/346،بیروت)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/92،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(8/35،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16-04-1443/2021-11-22
جلدنمبر 25 فتوی نمبر:117

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔