سوال

تراویح کی اجرت سےحاصل ہونےوالےپیسوں کامصرف کیاہے؟نادارآدمی خوداستعمال کرسکتا ہےیا نہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگراجرت دینےوالےمعلوم ہوتوان کوواپس کرناضروری ہےاوراگرمعلوم نہ ہوتوثواب کی نیت کےبغیرصدقہ کردے خوداستعمال کرناجائزنہیں۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2687،رشیدیة)
ولایحل للورثۃایضااخذالمیراث من کسب حرام،وعلیھم ردمااخذوہ علی اربابہ ان عرفوھم والاتصدقوابہ،لان سبیل الکسب الخبیث التصدق بہ اذاتعذرالردعلی صاحبہ.
وفی ردالمحتار:(9/95،بیروت)
فالحاصل:ان ماشاع فی زماننامن قراءۃالاجزاءبالاجرۃلایجوزلان فیہ الامربالقراءۃواعطاء الثواب للامروالقراءۃلاجل المال ،فاذالم یکن للقاری ثواب لعدم النیۃالصحیحۃفاین یصل الثواب الی المستاجرولولاالاجرۃماقرااحدلاحدفی ھذاالزمان بل جعلوالقرآن العظیم مکسباووسیلۃالی جمع الدنیا۔اناللہ واناالیہ راجعون
وکذافی الشرح الحموی:(2/297،ادارۃالقران)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1006،مکتبہ معارف القران)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/157،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20-05-1443/2021-12-25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:89

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔