الجواب حامدا ومصلیا
مشکوۃشریف میں ہے:
“قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:یاتی علی الناس زمان یکون حدیثھم فی مساجدھم فی امردنیاھم فلاتجالسوھم فلیس للہ فیھم حاجۃ
.” مشکوۃشریف:(1/72،رحمانیہ)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:لوگوں پرعنقریب ایک ایساوقت آئےگاکہ وہ اپنی دنیاداری کی باتیں اپنی مسجدوں میں کیاکریں گےلہذاتم ان کےپاس نہ بیٹھوکیونکہ اللہ تعالی کوایسےلوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔
اس حدیث میں”فلیس للہ فیھم حاجۃ“کاایک مطلب ملاعلی قاری رحمہ اللہ نےیہ بیان کیاہے
حاجۃ)“:ھی کنایۃعن عدم قبول طاعتھم. کہ یہ کنایہ ہے ان کی عبادت کےقبول نہ ہونےسے۔
مرقاةالمفاتیح:(2/449،المکتبہ التجاریہ)
اسی مضمون کی روایت”المستدرک علی الصحیحین“:(5/245،بیروت) شعب الایمان :(3/87،بیراوت) حلیۃالاولیاء: (4/109،بیروت)اورالترغیب والترھیب:(1/128،رشیدیہ)میں بھی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
21-08-1443/2022-03-25
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:56