سوال

کہ(1)والدین پراولادکےنان نفقہ کی ذمہ داری کب تک ہے (2)اور اولادجب جوان ہوجائےتوکیاان پربھی والدین کےنان نفقہ کی کوئی ذمہ داری عائدہوتی ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

(1)

جواولادخودمالدارہواس کاخرچ والدکےذمہ لازم نہیں اورجواولادمالدارنہ ہوان میں سےلڑکیوں کی شادی تک اورلڑکوں کےبالغ ہونےتک ان

کاخرچ والد کےذمہ لازم ہےاورجوبالغ لڑکامعذوری یاکم عقلی وغیرہ کی وجہ سےکوئی کام وغیرہ نہ کرسکتاہوتواس کاخرچ بھی والد کےذمہ لازم ہے۔(2)والدین اگرضرورت مندہوں توان کاخرچ مالداراولادکےذمہ ہے۔

لمافی القرآن الکریم:(البقرۃ:233)
“وعلی المولودلہ رزقھن․”
وفی مقام آخر:(العنکبوت:8)
“ووصیناالانسان بوالدیہ حسنا”.
وفی الھندیة:(1/560،رشیدیة)
“نفقۃالاولادالصغارعلی الاب لایشارکہ فیھااحدکذافی الجوھرۃالنیرۃ”.
وفیہ ایضا:(1/563،رشیدیة)
“ولایجب علی الاب نفقۃالذکورالبکارالاان یکون الولدعاجزاعن الکسب لزمانۃاومرض ومن یقدرعلی العمل لکن لایحسن العمل فھوبمنزلۃالعاجزکذافی فتاوی قاضیخان”.
وفی المبسوط:(5/222،بیروت)
قال)رضی اللہ عنہ ویجبرالرجل الموسرعلی نفقۃابیہ وامہ اذاکانامحتاجین لقولہ تعالی:ولاتقل لھمااف،نھی عن التافیف لمعنی الاذی،ومعنی الاذی فی منع النفقۃعندحاجتھمااکثرولھذایلزمہ نفقتھماوان کاناقادرین علی الکسب(قال)ویجبرالرجل علی نفقۃاولادہ الصغارلقولہ عزوجل:فان ارضعن لکم فآتوھن اجورھن
وکذافی سنن ابن ماجہ:(366،بیروت)
وکذافی الھدایة:(2/190،191،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/412،419،424،فاروقیة)
وکذافی الشامیة:(5/345،348،358،رشیدیة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(41/72،74،علوم اسلامیة)
وکذافی مجمع الانھر:(2/191،195،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
29-04-1443/2021-12-05
جلد نمبر :25 فتوی نمبر:161

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔