الجواب حامداً ومصلیاً
باہمی رضامندی سےقرض دار کے لیے قرض خواہ کو سونے یا چاندی کی قیمت دینا بھی جائز ہےاور سونایاچاندی ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا
لما فی جامع الترمذی:(1/366،رحمانیہ)
عن ابن عمر قال کنت ابیع الابل بالبقیع فابیع بالدنانیر فاٰخذ مکانھا الورق وابیع بالورق فاٰخذمکانھا الدنانیر فاتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوجدتہ خارجا من بیت حفضۃ فسالتہ عن ذلک فقال لاباس بہ بالقیمۃ
وفی المحیط البرھانی:(10/360،داراحیاءتراث)
” رجل اقرض رجلا مائۃ درھم علی انھا جیاد فقبضھا ثم اشتراھا المستقرض من القرض بعشرۃ دنانیر صح. “
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/121،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(272،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(1/673،رحمانیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/145،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الکتاب المصنف ابن ابی شیبہ:(4/385،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(5/466،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(9/397،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:184