سوال

کچھ کاروباری حضرات اعتکاف میں بیٹھ کر اپنا کاروبار وغیرہ جاری رکھتے ہیں،کیا ان کا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد میں سامان لائے بغیر ضرورت کے وقت اگرچہ خریدوفروخت کی گنجائش ہے،مگر باقاعدہ کاروبار چلانا نہ صرف یہ کہ روح اعتکاف کے منافی ہےبلکہ شرعابھی درست نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/464،فاروقیہ)
ولا باس للمعتکف بان یبیع ویشتری فی المسجد،وعن ابی یوسف انہ قال:ھذا اذالم یحضر السلعۃ فی المسجد،فاما اذا احضرھا فھو مکروہ،وقیل:اذا کان یبیع ویشتری للتجارۃ فھومکروہ
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/213،رشیدیہ)
” ولاباس للمعتکف ان یبیع ویشتری الطعام ومالابد منہ واما اذا اراد ان یتخذ متجرا فیکرہ لہ ذلک ھکذا فی فتاوی قاضیخان . “
وکذافی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیة:(1/222،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(173،زمزم)
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(3/506،دارالمعرفة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(270،البشریٰ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدرالمختار:(1/476،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(3/122،دارالمعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1774،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/530،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
5/9/1443/2022/4/7
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:105

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔