سوال

دوران ولادت نماز کا وقت داخل ہوجائے تو عورت پر اس وقت کی نماز فرض ہوگی یا نہیں؟نیز اگر دوران ولادت خون بھی جاری ہو تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اس خاتون پر نماز فرض نہ ہوگی۔

لما فی الصحیح البخاری:(1/108،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی اضحیٰ وافطر الی المصلی فمرعلی النساء…الیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم قلن بلیٰ قال فذلک من نقصان دینھا
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/38،رشیدیہ)
” ان یسقط عن الحائض والنفساء الصلاۃ فلا تقضی . “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/118،الطارق)
“یحرم علی المراۃ اثناء الحیض والنفاس الصلاۃ فرضا کانت اؤواجبۃ اؤ سنۃاؤ نفلا”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/624،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(141،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/479،فاروقیہ)
وکذافی رد المحتار:(1/532،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(41/7،علوم اسلامیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/233،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/401،داراحیاءتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:110

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔