سوال

کہ1:نماز میں اگر تکبیرتحریمہ میں تاخیر ہوجائے(جبکہ پہلی رکعت میں آدمی رکوع سے پہلے پہلے جماعت میں شریک ہوجائے)تو یہ ثنا کب پڑھے گا2:بعض لوگ سلام ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں”السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ومغفرتہ وطیب صلوٰتہ”کیا یہ الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں؟اور ان الفاظ کے ساتھ سلام کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

1

صورت مسؤلہ میں مقتدی کوچاہیئے کہ وہ ثناء نہ پڑھے ،بلکہ خاموش رہے ۔
2

احادیث مبارکہ سےسلام کے الفاظ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ”ثابت ہیں اس پر اضافہ کرنا مناسب نہیں۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1/ 281،رشیدیة)
“ثم اعلم ان الثناءیاتی بہ کل مصل فالمقتدی یاتی بہ مالم یشرع الامام فی القراۃ مطلقا سوا ءکان مسبوقا اومدرکا فی حالۃ الجھر او السر . “
وفی الفتاوی العالمکیریة للشیخ نظام والجماعة: (1/90، رشیدیة)
“انہ اذا ادرک الامام فی القراۃ فی الرکعة التی یجھر فیھا لا یاتی بالثناء کذا فی الخلاصۃ. “
وکذافی تفسیر القرآن العظیم المسمی بتاویلات اھل السنة: ( 2/ 326،الحقانیة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل: ( 3/ 516،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الموسوعة الفھیة: ( 4/ 53،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة علی المختصر القدوری: ( 1/ 60، حقانیة)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 2/ 195، فاروقیہ)
وکذا فی الشامیة للعلامة ابن عابدین: (2 / 232،رشیدیة )
وکذافی فتاوی قاضیخان : ( 1/ 104، رشیدیة)
وکذافی شرح ملتقی الابحر للامام ابراھیم: ( 1/ 142،المنار)
وکذافی غنیة المتملی فی شرح منیة المصلی: ( 304، رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی للامام برھان الدین المعالی: ( 2/ 133،دار احیا تراث)
لمافی مجمع الزوائدومنبع الفوائد : (8 / 32، دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس قال جاءثلاثۃ نفر الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال احدھم السلام علیکم، فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم( وعلیک ورحمۃ اللہ) ، فجاء الثانی فقال السلام علیکم ورحمۃ اللہ ،فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وجاء الثالث فقال السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثل ما قال، وابو الفتیٰ جالس مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ زدت فلانا و فلانا ولم تزد ابنی شیافقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما وجدنا لہ من زیادۃ ، فرد علیہ مثل ما قال
و فی المحیط البرھانی: ( 7/ 18، دار احیا تراث )
والافضل للمسلم ان یقول السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، والمجیب کذلک یرد ،ولا ینبغی ان یزاد علی البرکات شیئ ، فقال ابن عباس لکل شیئ منتھی ومنتھی” السلام “البرکات
وکذا فی الادب المفرد: ( 71، دار احیا تراث )
وکذا فی اوجز المسالک الی موطا مالک: ( 15/ 137، دار الکتب العلمیة)
وکذا فی تفسیر القرطبی للاما ابی عبداللہ: (9 / 71، دار احیاء تراث )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (17 /771، فاروقیة)
وفی الفتاوی العالمکیریہ للشیخ نظام والجماعة: ( 5/325، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/2/1443/2021/9/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:51

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔