الجواب حامداً ومصلیاً
اگر کھوٹ عرف اور رواج کے مطابق ہو اور خریدار کو اس کا علم بھی ہو تو اس کی شرح بتائے بغیر بیچنا جائز ہےاور اگر خریدار کو کھوٹ کا علم نہیں یا عرف ورواج سے زیادہ ہو تو بتانا ضروری ہے ،ورنہ یہ دھوکہ ہوگا جو شرعانہایت قبیح عمل ہے۔
لما فی سنن ابی داؤد: ( 2/124،رحمانیہ)
“ون ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع الغرر . “
وفی الفقہ الاسلام وادلتہ:(5/3307،رشیدیہ)
ان الغبن الفاحش فی الدنیا ممنوع باجماع الشرائع اذھو من باب الخدع المحرم شرعا فی کل ملۃ،لکن الیسر منہ الذی لایمکن احتراز عنہ لاحد امر جائز،اذلو حکمنا بردہ ما نفذ بیع ابدا
وکذافی الموسوعة الفقھیہ:( 31/221،علوم اسلامیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(8/304،فاروقیہ)
وکذافی حاشیہ ابن عابدین:(7/197،دارالمعرفة)
وکذا فی العالمکیریہ :(3/74،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :(10/91،داراحیاتراث)
وکذا فی درالاحکام شرح المجلہ :(1/364،العربیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: :(4/41،الطارق)
وکذا فی :مجمع الضمانات :(399،حقانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احقرمحمدعبداللہ غفرلہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:130