سوال

وضو کا جو پانی استعمال ہوگیا ہے،اس سے استنجاء ہوجائے گا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوجائے گا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(79،البشریٰ)
 ویکرہ أن یشرب ماءًمستعملا أویطبخ بہ شیاءً وتجوز ازالۃ النجاسۃ بہ
وفی البحر الرائق:(1/174،رشیدیہ)
 عن ابی حنیفۃ أن الماء المستعمل طاھرغیرطھور لأن إزالۃالنجاسةالحقیقۃ تجوز بالمائعات عند ابی حنیفۃ
وفی ھامش الھدایة:(1/80،البشریٰ)
الماء المستعمل لا یطھر الاحداث)خص الاحداث بالذکر،لأنہ یطھر الأنجاس اذھو مائع مزیل کالخل
وکذافی الفتاوی التتارخانیہ:(1/342،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/276،داراحیاءتراث)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/274،رشیدیہ)
وکذافی العنایہ علی الھامش فتح القدیر:(1/909،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ فی شرح الھدایة:(1/344،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:59

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔