الجواب حامداً ومصلیاً
بہو اگر واقعی حاجت مند ہے اور اس کی حاجت براری کے لئے اگر یہ زکوٰۃ اس کو دی جائے تو یقینا زکوۃ اد ہوجائے گی لیکن اگر بہو کے حیلے سے زکوٰۃ کو بیٹے تک پہنچانا مقصود ہو تو واضح رہے یہ سخت گناہ ہوگا۔
لما فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/198،فاروقیہ)
” قال اللہ تعالیٰ (انما الصدقات للفقراء والمسٰکین)فالایۃ جامعۃ محل الصدقات من جملۃ ذلک الفقرء والمساکین. “
وفی ردالمحتار:(3/344،رشیدیہ)
” ویجوز دفعھا الزوجۃ ابیہ و ابنہ وزوج ابنتہ. “
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(3/211،فاروقیہ)
” ویجوز ان یعطی امرۃ ابیہ وابنہ وزوج ابنتہ. “
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1970،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/425،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:56