سوال

اس مسئلے میں تشویش کو ختم فرمائیں دنیا وآخرت میں اللہ تعالیٰ سےماجورہوں (1)حضورعلیہ السلام سے سفر وحضرمیں کونسا عمامہ ثابت ہےاور اسکی لمبائی کتنی ہے؟(2)نیزیہ بھی احادیث مبارکہ سے واضح کریں کہ حضورعلیہ السلام سےسفید عمامہ ثابت ہے یانہیں؟اگرثابت ہے توکس حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے،وہ حدیث بتائیں!(3)نیزیہ بھی واضح کریں کہ ایسے علاقے میں کالی پگڑی باندھنا کیساہے جہاں اہل تشیع رہتے ہوں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

(1)

حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام سے سفر وحضر میں سیاہ،زرداورزعفران کےرنگےہوئےعمامہ کاذکرملتا ہے،البتہ سیاہ کاذکر زیادہ ملتا ہے۔ عمامہ کی لمبائی کےمتعلق مشایخ کرام نےمختلف اقوال نقل فرمائے ہیں کسی خاص مقدارکو متعین نہیں فرمایا،آپ علیہ الصلوٰۃوالسلام عام حالات میں تین ہاتھ،پانچوں نمازوں میں سات ہاتھ اورجمعہ وعیدین میں 12ہاتھ لمبی پگڑی باندھتےتھے،3ہاتھ پگڑی تقریباً1.37 میٹر، 7ہاتھ تقریباً3.20میٹر،اور12ہاتھ پگڑی تقریباً5.48میٹربنتی ہے۔(2)سفیدعمامہ حضور علیہ السلام سے ثابت تو نہیں البتہ سفیدکپڑاآپ علیہ السلام کوپسندتھا۔(3)جائزہے،لیکن انکےمخصوص ایام میں تشبہ ہوتو بچا جائے۔

لمافی جامع الترمذی:(1 /436 ،رحمانیہ)
“عن جابرقال دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکۃ یوم الفتح وعلیہ عمامۃ سوداء۔ “
وفی سبل الھدیٰ والرشاد:(7/273،نعمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج علینارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم وعلیہ قمیص اصفر،ورداءاصفر، وعمامۃصفراء
وفی سنن النسائی :(2/761،رحمانیہ)
“عن جعفر بن عمروبن حریث عن ابیہ قال رایت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عمامۃ حرقانیۃ۔
عن جابران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دخل فتح مکۃ وعلیہ عمامۃ سوداءبغیراحرام۔ “
وفی المواھب اللدنیہ:(1/99،تالیفات اشرفیہ)
“لکن نقل عن النووی انہ کان لہ صلی اللہ علیہ وسلم عمامۃقصیرۃ وکانت ستۃاذرع وعمامۃ طویلۃ وکانت اثنی عشر ذراعاً۔ “
وفی العرف الشذی علی ھامش الترمذی:(1/436،رحمانیہ)
“کانت عمامۃ علیہ السلام فی اکثرالاحیان ثلثۃاذرع شرعیۃ وفی الصلوات الخمس سبعۃ اذرع وفی الجمع اثناعشرذراعاً “
وفی المسوعة الفقھیة:(30/302،علوم اسلامیہ)
“وعن اسماعیل بن عبداللہ بن جعفرعن ابیہ،قال ر ایت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثوبین مصبوغین بزعفران رداءوعمامۃ۔”
وفی التعلیق الصبیح:(4/512،رشیدیہ)
“قولہ:من تشبہ بقوم ای شبہ بالکفار مثلاً فی اللباس وغیرہ۔ “
وفی سنن ابی داؤد:(2/207،رحمانیہ)
“عبن عباس قال قال رسول اللہ علیہ وسلم البسوا من ثیابکم البیض فانھامن خیر ثیابکم الخ۔ “
وکذافی شمائل ترمذی:(2/729،رحمانیہ)
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/273،نعمانیہ)
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/276،نعمانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/303،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:36

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔