الجواب حامداًومصلیاً
اگروراثت کےتہائی مال سےنمازوں کافدیہ مکمل کیاجاسکتاہےتوفقیرکوبلاشرط دیاجائےاوراگرتہائی مال سےیہ فدیہ پوراکرنا ممکن نہ ہوتوپھریہ وصیت پوراکرنالازم ہی نہیں ہے۔
باقی افضل یہی ہےکہ اس طرح کی حیلہ سازی سےبچاجائےلیکن اگرکوئی یہ حیلہ اختیارکرےتونتیجےمیں امیدہےکہ میت کی نمازوں کافدیہ قبول ہوجائے۔
لمافی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
وان لم یترک مالایستقرض ورثتہ نصف صاع ویدفع الی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثتہ ثم یتصدق ثم وثم حتی یتم لکل صلاۃماذکرناکذا فی الخلاصۃ ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1152،رشیدیہ)
وتوخذالکفارۃوفدیۃالصوم: من ثلث مال المتوفی فان لم یکن لہ مال یستقرض وارثہ نصف صاع مثلا،ویھبہ للفقیر،ثم یھبہ الفقیرلولی المیت ویقبضہ،ثم یدفعہ الولی للفقیر،فیسقط من الصلاۃوالصوم بقدرہ،وھکذاحتی یتم اسقاط ماکان علیہ من صلاۃوصوم
وکذافی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیہ)
وکذافی متن الشامیہ:(2/644،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/308،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح (متن حاشیةالطحطاوی) :(1/439،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(2/160،رشیدیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/535،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:119