سوال

وضوکرتےوقت مسواک کرنےسےخون نکلناشروع ہوجائےاوروہ خون آخروضویادرمیان وضو تک جاری رہےتواس وضوکاکیاحکم ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

ایساوضودرست نہیں ہوا،جب خون رُکےتودوبارہ وضو کیاجائے۔

لمافی کتاب المبسوط:(1 /77 ،دارالمعرفة)
” ثم حاصل المذہب ان الدم اذاسال بقوۃ نفسہ حتیٰ انحدرانتقض بہ الوضوء . “
وفی التاتارخانیة:(1/233،فاروقیہ)
” وفی الفتاوی وینبغی لمن رعف اوسال عن جرحہ دم ان ینتظر الیٰ آخرالوقت فان لم ینقطع الدم یتوضا . “
وکذا فی التنویروالدر: (1 /138،ایچ ایم سعید )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /122،رشیدیہ )
وکذافی الشامیة: (1 /113،ایچ ایم سعید)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /62،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (1 /421،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة: (43 /387، علوم اسلامی)
وکذافی الہندیة: (1 /11،الرشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /196،داراحیاءالتراث )
وکذافی المحیط البرھانی : (1 /193، داراحیاءالتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19/2/1443/2021/9/26
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:40

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔