الجواب حامداومصلیا
اگربیٹی والدسےپہلےفوت ہوگئی ہےتواس کواپنےوالدکی جائیدادسےاوراس کی اولادکواپنےناناکی جائیدادسےحصہ نہیں ملے گا،اگربعدمیں فوت ہوئی ہےتووالدکی جائیدادمیں سےبیٹی کوحصہ ملےگااورپھربیٹی کی جائیدادسےاس کی اولادکوحصہ ملےگا۔
لمافی الفقہ السلامی :(10/7707،رشیدیہ)
یشترط لثبوت الحق فی المیراث ثلاثۃ شروط:وھی موت المورث،وحیاۃالوارث،ومعرفۃجہۃالقرابۃ}وفی صفحۃ الآتیۃ {حیاۃ الوارث:لابدایضامن تحقق حیاۃ الوارث بعدموت المورث،اماحیاۃ حقیقیۃمستقرۃ اوالحاقہ بالاحیاءتقدیراً
وکذافی ردالمحتار:(10/525،رشیدیہ)
وکذافی السراجی:(8،شرکت علمیة)
وکذافی الہندیة:(6/458،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(6/448 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی؛23/288،ادارةالقرآن)
وکذافی التاتارخانیة:( 20/317،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:112