سوال

ایک آدمی فوت ہواجس کی میراث بیس ایکڑزمین ہےاورورثہ میں چاربیٹے اور ایک بیٹی ہےتوبیٹی کوکتناحصہ ملےگا؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

مرحوم نےبوقت وفات اپنی ملکیت میں جائیدادمنقولہ(جیسےسونا،چاندی،نقدی وغیرہ)یاغیرمنقولہ (جیسےمکان،دکان، زمین وغیرہ)غرض چھوٹابڑاجوسامان چھوڑاہو،نیزمیت کےقرضےیاایسےواجبات جوکسی فردیاادارےکےذمہ ہوں یہ سب میت کاترکہ شمارہوتےہیں۔
اس کے بعدمیت کےترکہ کےساتھ چندحقوق متعلق ہوتےہیں جنہیں ترتیب واراداکرناضروری ہے:
<1

میت کےدفن تک تمام ضروری مراحل پرہونےوالےجائزاورمتوسط اخراجات نکالےجاتےہیں ،اگرکوئی بالغ وارث یاکوئی اوراپنی طرف سےاحساناًاداکردےتوپھرنہیں نکالےجاتے۔
2>

اگرمیت کےذمہ کسی کاقرض ہوتوباقی مال سےاس کواداکیاجاتاہے،نیزاگرمرنےوالےاپنی بیوی کامہرادانہیں کیاتھااوربیوی نےخوش دلی سےمعاف نہیں کیاتھاتووہ بھی قرض شمارہوتاہے۔
3<

اگرمیت نےکسی غیروارث کےلیےجائزوصیت کی ہوتوبقیہ ترکہ کی تہائی تک اس وصیت کوپوراکیاجاتاہے۔
4>

ان تمام حقوق کی ادائیگی کےبعدجوبچےوہ تقسیم کیاجاتاہے۔
صورت مسئولہ میں تقسیم اس طرح ہوگی:مرحوم کےترکہ کےنو برابرحصےکرکےہرایک بیتےکودوحصے(٪22.22)اوربیٹی کوایک حصہ(٪11.11)دیےجائیں گے۔
بیس ایکڑزمین میں سےہربیٹےکو(5.5535)کنال اوربیٹی کو(.77717)کنال ملیں گی۔

البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وعصبھماالابن ولہ مثل حظہما)معناہ اذااختلط البنون والبنات عصب البنات فیکون للابن مثل حظہما۔
وفی السراجی:(8،شرکت علمیہ )
“ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھویعصبہن۔”

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:160

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔