سوال

ایک شخص نےقعدہ اخیرہ میں تشھدکی مقداربیٹھنےکےبعدکسی سےبات کرلی یاہنس پڑا،کیانمازہوگئی؟نمازکاکیاحکم ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

یہ نمازواجب الاعادہ ہوگی۔

لمافی البحرالرائق:(1/653،رشیدیہ)
وان تعمدہ اوتکلم تمت صلاتہ)ای :تعمدالحدث۔۔۔۔۔۔۔۔ومعنی قولہ:”تمت صلاتہ”تمت فرائضھا،ولھذالم تفسدبفعل المنافی،والافمعلوم انھالم تتم بسائرماینسب الیھامن الواجبات لعدم خروجہ بلفظ السلام وھوواجب،بالاتفاق حتی ان ھذہ الصلاۃتکون مؤداۃ علی وجہ مکروہ فتعادعلی وجہ غیرمکروہ۔
وفی درالمختار:(2/327،رشیدیہ)
ان تعمدعملاینافیہابعدجلوسہ قدرالتشھد )۔۔۔۔۔۔(تمت)لتمام فرائضھا،نعم!تعادلترک واجب السلام،}وفی الرد{ قولہ:(تمت) ای:صحت،اذلاشک انھاناقصۃ لترک الواجب،قولہ:(نعم تعاد)ای:وجوبا۔”
وکذافی النہرالفائق:(1/260،قدیمی)
وکذافی الدرالمختار:(2/181،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/209،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/206،حقانیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/327،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(2/20،ادارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:181

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔