سوال

ایک آدمی نےاپنی زمین میں تجارت کےارادےسےپانی کاتالاب بنایاہے،جس میں وہ مچھلیاں پال کرفروخت کرتاہے،توکیااس پران مچھلیوں کی زکاۃواجب ہوگی؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگریہ شخص پہلےسےصاحب نصاب ہےیامچھلیاں اتنی مالیت کی ہیں کہ جس سےوہ صاحب نصاب بن جائےتودونوں صورتوں میں اُن مچھلیوں کی مالیت پربھی زکاۃ واجب ہوگی ،ورنہ نہیں۔

لمافی المحیط البرہانی:(3/163،احیاءالتراث)
فنقول الزکاۃ واجبۃ فی عروض التجارۃلظاہرقولہٖ تعالی:خُذمن اموالہم صدقۃ“واسم المال یتناول عروض التجارۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لٰکنالانوجب الزکاۃفی العروض ان لم تکن للتجارۃبالاجماع ،والاجماعُ اذاکان للتجارۃ،ولان ہذامال یبتغیٰ منہ النماء،فیکون سبباًلوجوب الزکاۃ،کالدراہم والدنانیر،والسوائم
وفی البدائع:(2/109،رشیدیہ)
وامااموال التجارۃ فتقدیرالنصاب فیہابقیمتہامن الدنانیروالدراہم فلاشیئ فیہامالم تبلغ قیمتہامائتی درہم اوعشرین مثقالاًمن ذہب،فتجب فیہاسالزکاۃ
وکذافی الموسوعةالفقہیہ:(23/292،علوم اسلامیہ)
وکذافی الہندیہ:(1/179،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(2/190،دارالمعرفت)
وکذافی الدرالمختار:(3/230،رشیدیہ)
وکذافی البحر:(2/398،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/164،فاروقیہ)
وکذافی التبیین:(1/278،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/515،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہٗ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23/3/1443/2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:74

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔