سوال

آج کل قبروں پر کتبے لگائے جاتے ہیں،جو ہر خواص وعام کے لیے رائج ہیں،یہ کتبے لگا نا کیسا ہے؟اس کی جائزاور ناجائز صورت کو نسی ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگر کتبہ لگا نے کی ضرورت ہو مثلا قبر کے نشانات مٹ جانے کا یا اس کی اہانت کا اندیشہ وغیرہ تو پھر کتبہ لگانا جائز ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1553،رشیدیة)
وقال الحنففیۃ لا باس بالکتابۃ ان احتیج الیھاحتی لا یذھب الاثرولایمتھن لان النھی عنھاوان صح فقد وجدالاجما ع العملی بھا۔۔۔۔۔۔والخلاصۃ ان النھی عن الکتابۃ محمول علی عدم الحاجۃ وان الکتابۃ شئ من القرآن اوالشعراو اطراء مدح لہ ونحوذلک فھو مکروہ
وفی اللباب :(132،قدیمی)
“ولا باس بالکتابۃ ان احتیج الیھا حتی لایذھب الاثر ولا یمتض”
وکذا فی الشامیة:(2/238،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(133،زمزم)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(75،ایم،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(2/340،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجدید:(1/344،طارق)
وکذا فی غنیة المتملی:(599،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2022/6/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:131

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔