الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں ان کی اولاد کا نکاح آپس میں جائز نہیں،کیونکہ ہندہ اپنی بہن عالیہ کی رضائی بیٹی ہے اور اس کی اولاد کی رضائی بہن ہے،ان دونوں کی اولاد کا رشتہ آپس میں رضائی ماموں بھانجی اور رضائی خالہ بھانجے کا ہے،جیسے نسب کے ان رشتوں کا نکاح آپس میں جائز نہیں اسی طرح رضاعت کی صورت میں بھی جائز نہیں ہو گا۔
لما فی القرآن الکریم: ( النساء:23)
” وامھاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ۔۔۔۔الآیۃ . “
وفی بدائع الصنائع: ( 3/ 396،رشیدیہ )
فالاصل من یحرم بسبب القرابۃ من الفرق السبع الذین ذکرھم اللہ عزّ وجلّ فی کتابہ الکریم نصّاً او دلالۃً علیٰ ما ذکرنا فی کتاب النکاح یحرم بسبب الرضاعۃ (وبعد اسطرٍ)والاصل فی ھذہ الجملۃ قول النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلْم:یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب فیجب العمل بعمومہٖ الا ما خص بدلیلٍ
وکذافی فتاویٰ قاضیخان: (1 /416 ،رشیدیہ )
الرضاع فی اثبات حرمۃ المناکحۃ بمنزلۃ النسب والصھریّۃ لما انّ الحرمۃ بالنسب اذا ثبتت فی الامْھات والبنات تتعدّٰی الی الجدات والنوافل فکذا اذا ثبتت بالرضاع تتعدّٰی الی اصول المرضعۃ وفروعھا واِخوتِھا واَخَوَاتھا
وکذا فی صحیح البخاری:(2/270 ،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(5/132 ،دار المعرفۃ،بیروت)
وکذافی المحیط البرہانی:(4/93 ،دار احیاء التراث)
وفی الدر المختار مع تنویر الابصار:(4/393 ،رشیدیہ)
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/277 ،رشیدیہ)
وفی احکام القرآن للشیخ ظفر احمد العثمانی:(2/206 ،ادارۃ القرآن)
وفی الفتاوی النوازل:(191 ،حقانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نوید عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/02/1443/2021/09/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:24