سوال

دوران ِنماز ِتراویح امام نے غلط پڑھا اور اگراس جماعت میں خواتین بھی پردے میں نماز تراویح پڑھ رہی ہوں تو کیا اب عورت لقمہ دے سکتی ہے؟(خواہ محرم ہو یا نا محرم ہو) اور اگر لقمہ دے تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

عورت کو کسی اجنبی کی موجودگی میں بلند آواز سے بات کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے بالخصوص جہاں فتنے کا اندیشہ ہو،اس لیے امام کو لقمہ نہیں دے سکتی،اگر دے دیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

لما فی الدر المختار مع الرد:(2/96،رشیدیة)
صوتھا علی الراجح(وفی الرد تحت ھذا القول)قولہ(وصوتہا) :معطوف علی المستثنی یعنی أنہ لیس بعورۃ حینئذٍ قولہ( علی الراجح) :عبارۃ(البحر) عن( الحلیۃ) أنہ الأشبہ وفی(النھر) وھوالذی ینبغی اعتمادہ ومقابلہ ما فی (النوازل) :نغمۃ المرأۃ عورۃ وتعلمھا القرآنَ من المرأۃ احب قال علیہ الصلوۃ والسلام :(التسبیح للرجال والتصفیق للنساء) فلا یحسن أن یسمعھا الرجل وفی(الکافی) :ولا تلبّی جھراً لأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ فی(المحیط)۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال فی الفتح: وعلی ھذا لو قیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلوۃ فسدت کان متّجھاً
وفی البحر الرائق:(1/470،رشیدیة)
وصرح فی(النوازل) بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ أحب الیّ من تعلمھا من الأعمی ولذا قال صلی اللہ علیہ وسلم(التسبیح للرجال والتصفیق للنساء) فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال ولا تلبی جھراً لأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط فی باب الاذان وفی(فتح القدیر): وعلی ھذا لو قیل اذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاً وفی شرح المنیۃ:الاشبہ: أن صوتھا لیس بعورۃ وانما یؤدی الی الفتنۃ کما علل بہ صاحب الھدایۃ وغیرہ فی مسئلۃ التلبیۃ ولعلہن انما منعن من رفع الصوت بالتسبیح فی الصلوۃ لہذا المعنی ولا یلزم من حرمۃ رفع صوتھا بحضرۃ الأجانب أن یکون عورۃ کما قدمناہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(1/755،رشیدیة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/528،قدیمی)
وکذا فی صحیح المسلم:(1/219،رحمانیة)
وکذا فی فتح الملہم:(3/246،دار العلوم کراچی)
وکذا علی حاشیةکنز الدقائق:(20،حقانیة)
وکذا فی فتح القدیر:(1/267،رشیدیة)
وکذا فی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/115،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:23

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔