سوال

میں سونے چاندی کا کام کرتا ہوں اور میرے پاس سنار کام کرانے آتے ہیں اور میری دکان میں سونےا ور چاندی کے ذرات گرتے ہیں کام کرتے وقت؛پھر میں اپنی دکان کا گردو غبار،جھاڑ وغیرہ بیچتا ہوں اور پیسے خود رکھتا ہوں اور یہ چیز سناروں کے بھی علم میں ہے کیا میرے لیے وہ رقم جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی مشکوۃ المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ألا لا تظلمو،ألا لا یحل مال إمرإ إلا بطیب نفس منہ
وفی الفتاوی الہندیة:(3/227،رشیدیة)
ولیس ینبغی للصائغ أن یأکل من ثمن ما باع من تراب الصیاغۃ من قِبل أن ما فیہ متاع الناس إلا أن یکون قد زاد فی متاعھم حین أوفاھم بقدر ما سقط من مالہم فی التراب فإذا کان کذالک طاب لہ الأکل من ثمنہ
وکذا فی الدر المختار:(8/602،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/169،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(7/483،رشیدیة)
وکذا فی شرح العینی:(2/261،ادارۃ القران)
وکذا فی مجمع الانھرعلی ھامش ملتقی الابحر:(3/490،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(3/126،حرمین شریفین)
وکذا فی البنایة:(9/215،رشیدیة)
وکذا فی الھدایة:(3/288،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(9/33،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر :22

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔