سوال

مغرب کی نماز میں پہلے قعدہ میں دونوں طرف سلام پھیر دیا،بات نہیں کی تھی کہ یاد آگیا، اب وہ تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور نماز مکمل کر لی،اس نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر نماز توڑنے والا کوئی کام نہیں کیا اور سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو گئی ورنہ نہیں

لما فی الشامیة:(2/673،رشیدیة)
ویسجد للسہو ولو مع سلامہ) ناویا(للقطع) لأن نیۃ تغییر المشروع لغو(ما لم یتحول عن القبلۃ أو یتکلم) لبطلان التحریمۃ.(وفی الرد) قولہ:(لبطلان التحریمۃ)أی: بالتحوّل أو التکلم
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
إذا عرض لہ الشک بعد انتہاء الصلوۃ لا عبرۃ لہ إلا أن یغلب علی ظنّہ أنّہ نقص شیئا فی صلوتہ فیعید صلوتہ إن فعل بعد السلام فعلا یمنع البناء وإلا أتی بالمتروک وسجد للسہو
وکذا فی الشامیة:(2/657،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/308،ادارة القران)
وکذا فی مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحرعلی ہامشہ:(1/185،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی شرح ملتقی الأبحر علی ہامشہ:(1/185،المنار)
وکذا فی النہر الفائق:(1/279،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/126،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/505،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/172،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/05/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:76

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔