الجواب حامداًومصلیاً
1
۔صورت مسئولہ میں،20,000 روپے نقد کے بدلے میں ادھار گندم خریدی گئی ہے۔اس میں گندم کی مقدار اور ریٹ متعین نہیں کیا گیا،اس لیے نا جائز ہے۔2۔20,000 پر5,000 روپے زائد واپس لینا سود ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔3۔پیسے قرض دیتے وقت واپس وصولی کے لیے اگر اس جنس کی قسم،ریٹ اور سپردگی کی مدت طے کر لیں تو یہ صورت جائز ہو جائے گی اور یہ پیسے اس جنس کی پیشگی قیمت شمار ہوں گے۔
لما فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وأما الذی یرجع الی نفس القرض فھو أن لا یکون فیہ جرّ منفعۃ فإن کان لم یجز.نحو ما أذا أقرضہ دراہم غلۃ علی أن یرد علیہ صحاحاً أو أقرضہ وشرط شرطاً لہ فیہ منفعۃ لما روی عن رسول اللہﷺأنہ نھی عن قرض جرّ نفعاً.ولأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربا لأنھا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب.ھذا إذا کانت الزیادۃ مشروطۃ فی القرض۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الموسوعة الفقہیة:(22/58،علوم اسلامیة)
وسمی[الربا النسیئۃ]الربا الجلی،قال ابن القیم:الجلی:ربی النسیئۃ۔۔۔۔۔۔۔مثل أن یؤخر دینہ ویزیدہ فی المال، وکلما أخرہ زادہ فی المال حتی تصیر المئۃ عندہ اٰلافاً مؤلفۃ
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(7/479،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(7/412،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/351،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/179،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/203،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/259،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الابحر:(3/141،المنار)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/358،ادار ة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/500،قدیمی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2021/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:140