سوال

ایک آدمی نے کسی سے20,000 روپے قرض لیے اس شرط پر کہ جب میری جنس مثلاً گندم آئے گی تو اس وقت گندم کا ریٹ مثلاً 13,00 روپے ہوا تو آپ12,00 روپے کے حساب سے گندم لے لینا اور اپنے پیسے پورے کر لینا۔لیکن جب گندم کا موسم آیا تو پھر وہ آدمی گندم نہیں دے سکا۔کچھ ماہ کے بعد جب قرض لینے والا واپس پیسوں کی ادائیگی کرنے لگا تو وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے25,000 روپے دو جبکہ قرض20,000 روپے لیے تھے،5,000 روپے اوپر اس لیے کہ رہا ہے کہ آپ نے گندم نہیں دی تھی،اگر گندم دیتے تو مجھے زیادہ پیسے ملتے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے اضافی5,000 روپے لینا جائز ہے؟جبکہ اصل رقم20,000 روپے تھی؟اور اسی طرح اس شرط پر قرض لینا کہ آپ کو ادائیگی کسی جنس وغیرہ کی صورت میں کروں گا،تو اس طرح قرض لینا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

1

۔صورت مسئولہ میں،20,000 روپے نقد کے بدلے میں ادھار گندم خریدی گئی ہے۔اس میں گندم کی مقدار اور ریٹ متعین نہیں کیا گیا،اس لیے نا جائز ہے۔2۔20,000 پر5,000 روپے زائد واپس لینا سود ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔3۔پیسے قرض دیتے وقت واپس وصولی کے لیے اگر اس جنس کی قسم،ریٹ اور سپردگی کی مدت طے کر لیں تو یہ صورت جائز ہو جائے گی اور یہ پیسے اس جنس کی پیشگی قیمت شمار ہوں گے۔

لما فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وأما الذی یرجع الی نفس القرض فھو أن لا یکون فیہ جرّ منفعۃ فإن کان لم یجز.نحو ما أذا أقرضہ دراہم غلۃ علی أن یرد علیہ صحاحاً أو أقرضہ وشرط شرطاً لہ فیہ منفعۃ لما روی عن رسول اللہﷺأنہ نھی عن قرض جرّ نفعاً.ولأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربا لأنھا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب.ھذا إذا کانت الزیادۃ مشروطۃ فی القرض۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الموسوعة الفقہیة:(22/58،علوم اسلامیة)
وسمی[الربا النسیئۃ]الربا الجلی،قال ابن القیم:الجلی:ربی النسیئۃ۔۔۔۔۔۔۔مثل أن یؤخر دینہ ویزیدہ فی المال، وکلما أخرہ زادہ فی المال حتی تصیر المئۃ عندہ اٰلافاً مؤلفۃ
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(7/479،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(7/412،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/351،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/179،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/203،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/259،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الابحر:(3/141،المنار)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/358،ادار ة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/500،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2021/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:140

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔