الجواب حامدًاومصلّیا
سوال میں بیان کی گئی تفصیلات اگر درست ہیں توصورت مسئولہ کا جواب یہ ہے
بلا کسی شرعی سبب کے ،شوہر کی مرضی کے بغیر،عدالت کاطلاق کا فیصلہ کرنا شرعا غیر معتبر ہے ؛لہذا،صورت مسئولہ میں انہوں نے نکاح پر نکاح کر کے بہت بڑے سخت حرام کام اورگناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے جس سے توبہ کرنا اور دونوں میں جدائی کرنا واجب ہے،نہ کرنے کی صورت میں تمام مسلمانوں کو ان سے تعلقات ختم کرنے چاہیں۔
آپ کے جو ماموں ان کی حمایت کر رہے ہیں اگر وہ مسئلے سے آگاہ ہونے اور سمجھانے کے با وجود بھی ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں اور ان سے تعلقات ختم نہ کریں تو اس ماموں سے بھی تعلقات نہیں رکھنے چاہیں۔
لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔ولأن النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءۃ وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً با التراضی بالخلع کالبیع
وفی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
نکاح معتدۃ الغیر یعتبر من الأنکحۃ الفاسدۃ المتفق علی فسادہا ویجب التفریق بینہما.وہذا با تفاق
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،،قدیمی)
وکذا فی مجمع الأنہر:(2/182،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(17،دار الحدیث)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(14/125،علوم اسلامیة)
وکذا فی تکملة فتح الملہم:(5/356،دار العلوم کراچی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(42/166،علوم اسلامیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/550،رشیدیة)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/07/1443/2022/02/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:144