الجواب حامداًومصلیاً
ہر وہ وصیت جو خلاف شریعت ہو اس کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔ لہذا ،صورت مسئولہ میں مذکور وصیت کو بھی پورا کرنا جائز نہیں۔
لما فی الموسوعة الفقہیة:(43/258،علوم اسلامیة)
خامسا:أن لا یکون الموسی بہ معصیة أو محرماً شرعاً
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(10/7483،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔أن لا یکون الموسی بہ معصیة أو محرماً شرعاً:لأن القصد من الوصیۃ تدارک ما فات فی حال الحیات من الاحسان فلا یجوز أن تکون معصیة
وکذا فی الموسوعة الفقیة:(43/258،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة:(10/419،رشیدیة)
وکذا فی مصنف عبد الرزاق:(11/335،المکتب الاسلامی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(10/7484،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/440،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/439،رشیدیة)
وکذا فی البزازیة علی ہامش الہندیة:(6/433،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/494،495،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(9/303،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر:(4/4510،المنار)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:98