سوال

میں ایک کمپنی کاملازم ہوں اورکمپنی کی دوائی سیل کرتاہوں،اب میں اس کےساتھ اپناکاروبارکرناچاہتا ہوں،کمپنی جودوائی بناتی ہےاس پراس کی قیمت درج ہوتی ہے،مثلاً’’250‘‘روپے،جبکہ وہ دوائی’40‘یا’50‘روپےمیں تیارہوتی ہےاورمجھےاتنےہی کی ملتی ہے،اب میں کسی ڈسٹری بیوٹرکو٪10دےکراس کوسپلائی کرواتاہوں اورڈاکٹرحضرات سےاس دوائی کولکھنےکےلیےشرائط طےکی جاتی ہیں کہ آپ کواس پرکمیشن کی صورت میں 100روپےیا٪50 دیاجائےگا،یاکچھ اورشرائط طےکی جاتی ہیں تاکہ وہ صرف میری ہی دوائی لکھ کردے۔کیااس طرح کا کاروبارجائز ہے؟بہت سےلوگ یہ کام کررہےہیں،یااس کی کوئی صورت جودرست ہو،اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دواءسازکمپنی کاڈاکٹرکوکمیشن دیناپھرڈاکٹرکااسی مخصوص کمپنی کی دواءمریض کولکھ کردینا،چندشرائط کےساتھ جائزہے۔(1) دواءسازکمپنی ڈاکٹرکودیےجانےوالےکمیشن کاخرچہ ادویات مہنگی کرکےمریض سےوصول نہ کرے۔(2) کمپنی کمیشن کی ادائیگی کاخرچہ وصول کرنےکےلیےادویات کےمعیارمیں کمی نہ کرے۔(3) محض کمیشن وصول کرنےکی خاطرڈاکٹرغیرمعیاری وغیرضروری اورمہنگی ادویات تجویز نہ کرے۔(4) کسی دوسری کمپنی کی دواءمریض کےلیےزیادہ مفیدسمجھنےکےباوجودخاص اس کمپنی ہی کی دواءتجویز نہ کرے۔(5) کمیشن فیصدکےاعتبارسےیامتعین رقم کی صورت میں طےہو۔
اگر ان شرائط کالحاظ نہیں کیاجاتاتوپھرکمپنی کاڈاکٹرکوکمیشن دینااورڈاکٹرکےلیےکمیشن وصول کرناجائزنہیں۔
(استفادہ از:جدیدمیڈیکل مسائل اور ان کاحل،
دارالافتاء:دارالعلوم کراچی،22،م:لدھیانوی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/8/1443/2022/3/15
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:183

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔