سوال

ایک آدمی ساتویں اپنےبچےکاعقیقہ نہیں کرسکا،اب تین سال گزرگئےہیں ،کیایہ اب عقیقہ کرسکتاہے اوراس کوسنت کاثواب ملےگااوراس میں کس دن کااعتبارکرے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اب بھی عقیقہ کیاجاسکتاہےاورعقیقہ کاہی ثواب ملےگااوراس میں اب بھی بچےکی پیدائش کےساتویں دن کااعتبار کرنابہترہے۔مثلاً: بچہ اگر’پِیر‘کوپیداہواتو’اتوار‘ساتواں دن بنتاہے،تواب کسی بھی اتوارکوعقیقہ کرنابہترہے۔البتہ اتوارکےعلاوہ کسی دوسرےدن بھی کیاجاسکتاہے۔

لما فی فتح الباری:(9/742،قدیمی)
ونقل الترمذی عن أھل العلم أنھم یستحبون أن تذبح العقیقۃیوم السابع،فإن لم یتھیأفیوم الرابع عشر،فإن لم یتھیأعق عنہ یوم أحدوعشرین…فنقل الرافعی أنہ یدخل وقتھابالولادۃ،قال :وذکر السابع فی الخبربمعنی أن لاتؤخرعنہ اختیاراً،ثم قال :والإختیارأن لاتؤخرعن البلوغ .فإن أخرت عن البلوغ سقطت عمن کان یریدأن یعق عنہ،لکن إن أرادأن یعق عن نفسہ فعل. وأخرج ابن أبی شیبۃعن محمدبن سیرین قال :لوأعلم أنی لم یعق عنی لعققت عن نفسہ
وفی اعلاءالسنن:(17/118،ادارةالقرآن)
…وفیہ وأنھالاتفوت بالتأخیرعن الیوم السابع وبہ قال الجمھور…وفی الحدیث المذکورأیضاًأنھاإن لم تذبح فی السابع ذبحت فی الرابع عشر،وإلاففی الحادی والعشرین ثم ھکذافی الأسابیع
وکذافی السنن الکبری:(9/510،العلمیہ)
وکذافی الشامیة:(9/554،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(2/367،قدیمی)
وکذافی البدائع:(4/204،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(30/277،اسلامیہ)
وکذافی عارضةالأحوذی:(6/319،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443/2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:169

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔