سوال

سُترہ کی مقدارکاکیاحکم ہے؟کیاسترہ نمازی کےسامنےبالکل درمیان میں ہو،یاکچھ دائیں بائیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سُترہ کی شرعی مقدار:کم ازکم ڈیڑھ فٹ لمبائی اورایک انگلی کےبرابرموٹائی ہے۔اورسترہ نمازی کی دائیں یابائیں ابروکےسامنےہوناچاہیے۔البتہ دائیں طرف ہوناافضل ہے۔

لما فی الھندیة:(1/104،رشیدیہ)
وینبغی لمن یصلی فی الصحراءأن یتخذامامہ سترۃ،طولھاذراع وغلظھاغلظ الاصبع ویقرب من السترۃویجعلھاعلی حاجبہ الأیمن أوالأیسر،والأیمن أفضل .ھکذافی التبیین
وفی التنویرمع الدر:(1/636،سعید)
ویغرز)ندباًبدائع(الامام)وکذاالمنفرد(فی الصحراء)ونحوہا(سترۃبقدرذراع)طولا(وغلظ أصبع)لتبدوللناظر (بقربہ)دون ثلاثۃأذرع(علی)حذاء(أحدحاجبیہ)مابین عینیہ .والأیمن افضل
وکذافی سنن ابی داود:(1/109،رحمانیہ)
وکذافی البدائع:(1/510،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/183،المنار)
وکذافی الھدایة:(1/140،المیزان)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/216،ادارةالقرآن)
وکذافی التبیین:(1/160،امدادیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(1/190،دارالمعرفة)
وکذافی البحرالرائق:(2/30،رشیدیہ)
وکذافی الاوزان الشرعیة:(54،معاف القرآن)
وکذافی الھندیة:(1/27،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
01/5/1443/2021/12/06
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:174

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔