سوال

کسی آدمی سےغسل کرتےوقت کوئی فرض چھوٹ گیااوراس نےاس غسل سےنمازِجنازہ اورنمازِعصرپڑھ لی،بعدمیں یادآنےپر،اس کےلیےنمازعصر،نمازجنازہ اورغسل کاکیاحکم ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں غسل کاجوفرض چھوٹاہےاس کوپوراکرنےکےبعدصرف نمازِعصرکااعادہ کرے،نمازجنازہ کےاعادہ کی ضرورت نہیں۔

لما فی مجمع الزّوائد:(1/381،دارالکتب)
عن عبداللہ بن مسعود،ان رجلاًجاءالی النبی ،فسالہ عن الرجل یغتسل من الجنابۃفیخطئی بعض جسدہ الماء، فقال رسول اللہ :((یغسل ذلک المکان،ثم یصلی))
وفی کتاب الاصل:(1/59،)
قلت:ارایت رجلاًجنبااغتسل فبقی من جسدہ قدرموضع الدرھم لم یصبہ الماءثم صلی رکعۃاورکعتین ثم ضحک؟ قال:علیہ ان یغسل ذلک المکان الذی لم یصبہ الماءویستقبل الصلوۃولایعیدالوضوء
وکذافی المبسوط للسرخسی:(1/62،دارالمعرفة)
وکذافی الدرالمختارمع ردالمحتار:(1/155،سعید)
وکذافی المصنف لعبدالرزاق:(1/265،الاسلامی)
وکذافی التاتارخانیة:(1/272،فاروقیہ)
وکذافی البدائع:(1/142،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/86،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/164،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(2/54،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(1/301،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/3/1443/1202/10/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:69

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔