سوال

نمازکےمکروہ اوقات میں اورزوال کےوقت نمازپڑھنےکاکیاحکم ہے؟کیا اس وقت قضاءنمازپڑھ سکتےہیں۔اوراگرکوئی شخص مکروہ اوقات میں نمازپڑھ رہاہےاورکوئی دوسراشخص اس کی نمازختم کروادیتاہے،اس کےمتعلق کیاحکم ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

تین اوقات میں کوئی بھی نمازپڑھناممنوع ہے:(1)عین طلوع کےوقت (2)عین زوال کےوقت (3)عین غروب کےوقت
اور دو اوقات میں صرف نفل پڑھنامکروہ ہے:(1)طلوع فجرکےبعدسےسورج نکلنےتک (2)عصرکی نمازپڑھ لینےکےبعدسےسورج غروب ہونےتک۔
ان دواوقات میں قضاءنمازپڑھی جاسکتی ہے۔اگرکوئی شخص ان اوقات میں نفل نمازشروع کردےتو اسےتوڑنااورمباح وقت میں قضاءکرناواجب ہے۔

لما فی الشامیة:(2/42،رشیدیہ)
واعلم أن الأوقات المکروھۃنوعان،الأول:الشروق والإستواءوالغروب.والثانی:مابین الفجروالشمس ومابین صلاۃ العصرالی الإصفرار؛فالنوع الأول:لاینعقدفیہ شیئ من الصلوات التی ذکرناھااذاشرع بھا فیہ،وتبطل إن طرﺃعلیھا، إلاصلاۃ جنازۃحضرت فیھاوسجدۃتلیت آیتھافیھاوعصریومہ والنفل والنذرالمقیدبھاوقضاءماشرع بہ فیھاثم ﺃفسدہ؛ فتنعقدھذہ الستۃبلاکراھۃﺃصلافی الأولی منھا،ومع الکراھۃالتنزیھیۃفی الثانیۃ،والتحریمیۃفی الثالثۃ، وکذافی البواقی،لکن مع وجوب القطع والقضاءفی وقت غیرمکروہ.والنوع الثانی:ینعقدفیہ جمیع الصلوات التی ذکرناھامن غیرکراھۃﺇلاالنفل والواجب لغیرہ.فانہ ینعقدمع الکراھۃ،فیجب القطع والقضاءفی وقت غیرمکروہ
وفی کنزالدقائق:(18،حقانیہ)
ومنع عن الصلٰوۃوسجدۃالتلاوۃوصلٰوۃالجنازۃعندالطلوع والإستواءوالغروب إلاعصریومہ.وعن التنفل بعدصلٰوۃ الفجروالعصر،لاعن قضاءفائتۃوسجدۃتلاوۃوصلوۃجنازۃ.وبعدطلوع الفجرباکثرمن سنۃالفجر وقبل المغرب ووقت الخطبۃ
وکذافی الھندیة:(1/53،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/74،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/678،رشیدیہ)
وکذافی التنویرمع الدر:(2/37،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/186،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(1/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1443/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:142

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔