الجواب حامداً ومصلیاً
بےہوشی کی وجہ سے مسلسل چھ نمازیں قضاء ہوجائیں تو وہ معاف ہوتی ہیں، اس سے کم ہوں تو معاف نہیں ہوتیں ،بلکہ جیسے ہی ممکن ہو ،ادا کرنا ہوتی ہیں اگر ادا نہ ہوسکیں تو ان کے فدیہ کی وصیت واجب ہوگی ۔ تاہم اگر اسی مرض میں وفات پاگیا تو قضاء بھی لازم نہ ہوگی اور فدیہ بھی نہیں ۔(2)اپنی زندگی میں نمازوں کا فدیہ اد کرنا درست نہیں ہے ۔
لما فی التنویرمع الدر:(2/102،سعید)
ومن جن او اغمی علیہ)…. (یوماولیلۃ قضی الخمس وان زاد وقت صلاۃ) سادسۃ (لا) للحرج
وفیہ ردالمحتار:(2/74،سعید)
قولہ ولو فدی عن صلاتہ فی مرضہ لایصح فی التاتارخانیۃ عن التتمۃ سئل الحسن بن علی عن الفدیۃ عن الصلاۃ فی مرض الموت ھل تجوز فقال لا ، وفی القنیۃ ولافدیۃ فی الصلاۃ حالۃ الحیاۃ
وفی الھندیة:(1/137،رشیدیہ)
ان زاد عجزہ علی یوم ولیلۃ لایلزمہ القضاء وان کان دون ذالک یلزمہ…..والفتوی علیہ وان مات من ذالک المرض لاشیئ علیہ ولایلزمہ فدیۃ کذا فی المحیط
وکذافی التنویر مع الدر:(2/99،سعید)
وکذافی ردالمحتار:(2/99،سعید)
وکذافی الھندیة:(1/137،رشیدیہ)
وکذافی التبیین الحقائق:(1/204،)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:134