سوال

کیا حاجی کے لیے مزدلفہ مغرب تک پہنچنا ضروری ہے یا رات کے کسی بھی حصہ میں پہنچ جائے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مزدلفہ مغرب تک پہنچنا ضروری نہیں بلکہ رات کے کسی بھی حصہ میں جاسکتا ہے ، لیکن مغرب و عشاء کی نماز مزدلفہ میں پڑھنا ضروری ہے ، کیونکہ وقوف مزدلفہ کے واجب قیام کا اصل وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کر طلوع شمس تک ہے ۔

لما فی البدائع:(2/322،رشیدیہ)
واما زمانہ فمابین طلوع الفجر من یوم النحر و طلوع الشمس فمن حصل بمزدلفۃ فی ھذا الوقت فقد ادرک الوقوف سواء بات بھا او لا
وفی التنویر مع الدر:(2/511،سعید)
ثم وقف )بمزدلفۃ ، ووقتہ من طلوع الفجر الی طلوع الشمس ولو مارا کما فی عرفۃ
وفی الھندیة:(1/230،رشیدیہ)
ثم وقت الوقوف فیہا من حین طلوع الفجر الی ان یسفر جدا فاذا طلعت الشمس خرج وقتہ…… وقبلہ وبعدہ لایجوز
وکذافی فقہ الحنفی:(1/490،طارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/405،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(3/515،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2248،رشیدیہ)
وکذافی ارشادالساری:(1/242،فاروقیہ)
وکذافی الھدایة:(1/268،میزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:143

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔