الجواب حامداً ومصلیاً
بخاری مسلم و دیگر کتب حدیث میں اکثر روایات حجامہ کی اجرت کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ، اگر چہ بعض روایات میں ممانعت بھی آئی ہے ، تاہم ممانعت والی روایات کا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ اجازت والی روایات کی وجہ سے ممانعت منسوخ ہوگئی ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ روایات زمانہ جاہلیت والے طریقے کے بارے میں ہیں جس میں منہ سے خون چوسنا پڑتا تھا ۔ آج کل چونکہ حجامہ کے لیے ایسے جدید آلات میسر آچکے ہیں جن کے ذریعے حجامہ کرنے سے کسی طرح کی نجاست میں تلوث کا اندیشہ نہیں ہوتا ، اس لیے اب حجامہ کی اجرت بلاکراہت جائز ہے ۔ اوراگر اس سے عمدہ کاروبار باآسانی میسر ہوسکے تو اس کو ترجیح دے کر اختلاف سے بچنا بہتر ہے ۔
لما فی الصحیح للبخاری:(1/401،رحمانیہ)
عن ابن عباس قال احتجم النبی صلی اللہ علیہ وسلم واعطی الحجام اجرہ ولوعلم کراہیۃ لم یعطہ
وفی الصحیح للمسلم:(2/22،قدیمی)
عن حمید قال سمعت انسا یقول دعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم غلاما لنا حجاما فحجمہ فامر لہ بصاع او مد او مدین وکلم فیہ فخفف عن ضریبتہ
وکذافی الھدایة:(3/305،رشیدیہ)
وکذافی العنایة:(9/97،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(15/7،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/350،بیروت)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/534،دارالعلوم)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:168