الجواب حامداً ومصلیاً
تنہا سونے پر زکوۃ اس وقت فرض ہوتی ہے ، جب ا س کا نصاب(ساڑھے سات تولہ) پورا ہو ۔ صورت مسئولہ میں چونکہ سونے کا نصاب پورا نہیں ،اس لیے اس سونے پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔
لما فی ردالمحتار:(3/267،سعید)
قولہ (عشرون مثقالا )فمادون ذالک لازکوۃ فیہ ولوکان نقصانا یسیرا
وفی حاشیة الطحطاوی:(1/407،رشیدیہ)
قولہ (عشرون مثقالا )فمادون ذالک لازکوۃ فیہ
وفی المبسوط للسرخسی:(2/190،بیروت)
قال ولیس فی اقل من عشرین مثقالا من الذھب زکوۃ لحدیث عمرو بن حزم…. فذالک تنصیص علی انہ لاشئ فی الذھب حتی یبلغ عشرین مثقالا
وکذافی القدوری:(1/47،الخلیل)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/1823،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(1/436،قدیمی)
وکذافی الجوہرةالنیرة:(1/302،قدیمی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:158