سوال

ایک شخص نے اپنے بھائی کی نوزائیدہ بچی گود لی تھی، اور اس کے والد کے طور پر اپنا نام لکھوایا تھا، کیا اس طرح کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟ اس بچی کا اب نکاح ہونا ہے اس کے والد کے نام میں کس کا نام لکھا اور بولا جائے گا حقیقی والد کا یا منہ بولے والد کا؟ جبکہ شناختی کارڈ اور تمام کاغذات میں منہ بولے والد کا نام لکھا ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح کرنا قطعاً جائز نہیں۔ 2)بچی کے نکاح کے وقت حقیقی والد کا نام لکھا اور بولاجائے، نہ کہ منہ بولے والد کا۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة الاحزاب آیة 4)
و ماجعل ادعیاءکم ابنائکم ذالکم قولکم بافواھکم
وفی جامع الترمذی:(2/626،رحمانیہ)
عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال ماکنا ندعو زید بن حارثۃ الا زید بن محمد حتی نزل القرآن ادعوھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ
وفی تحفة الاحوذی:(9/70،قدیمی)
قولہ حتی نزل القرآن ادعوھم لآبائھم قال الحافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ ھذا امر ناسخ لما کان فی ابتداء الاسلام من جواز الدعاء الابناء الاجانب و ھم الادعیاء فامر تبارک و تعالی برد نسبھم الی آبائھم فی الحقیقۃ
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/521،قدیمی)
وکذافی احکام القرآن للشفیع:(3/290،مکتبہ دارالعلوم)
وکذافی معالم التنزیل:(3/506،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/05/1442/2021/01/03
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:124

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔