الجواب حامداً ومصلیاً
یہ معاملہ شرعاً درست ہے، اس شرط کے ساتھ کہ کمیشن اس ملازم کی اجرت سے زیادہ نہ ہو جو اس کام کے لئے اجرت پر رکھا جاتا ہے۔
لما فی الشامیة:(4/560،سعید)
قولہ( یعتبر العرف) فتجب الدلالۃ علی البائع او المشتری بحسب العرف
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(5/3326،رشیدیہ)
السمسرۃ ھی الواسطۃ بین البائع و المشتری لاجراء البیع و السمسرۃ جائزۃ و الاجر الذی یاخذ السمسار حلال
وکذافی الشامیة:(6/48،سعید)
وکذافی الھندیة:(4/450،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(15/136،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
03/05/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:19