الجواب حامداً ومصلیاً
شوہر کے کلام میں چونکہ صرف طلاق کا وعدہ اور دھمکی ہے جس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لیے صورت مسئولہ میں عورت حسب سابق شوہر کے نکاح میں رہیگی اور عورت کا یہ کہنا کہ” تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑ دیا ہے ” لغو ہے ،کیونکہ طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے نہ کہ عورت کو ۔
لما فی الھندیة:(1/384،رشیدیہ)
فقال الزوج: اطلق “طلاق می کنم” فکررہ ثلاثا، طلقت ثلاثا بخلاف قولہ:ساطلق “طلاق کنم ” لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/300،بشریٰ)
الطلاق یملکہ الرجل ولاتملکہ المراۃ فان طلقت المراۃ زوجھا لایقع الطلاق
وفی الفقہ الاسلامی:(9/6877،رشیدیہ)
جعل الطلاق بید الزوج لابید الزوجۃ ….ان المراۃ غالبااشد تاثرا بالعاطفۃ من الرجل فاذا ملکت التطلیق فربما اوقعت الطلاق لاسباب بسیطۃ لاتستحق ھدم الحیاۃ الزوجیۃ
وکذافی الدرالمختار:(3/319،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(3/545،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/230،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(3/414،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1442/2021/4/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:74