سوال

عرب ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے کہ مسبوق ، مسبوقین کا امام بن جاتا ہے اور ان کو نماز پڑھانا شروع کردیتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ حنفیوں میں تو ہم نے ایسا کبھی پڑھا یا سنا نہیں ۔ کس امام کے نزدیک یہ جائز ہے اور دلیل کیا ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

احناف اور مالکیہ کے نزدیک کوئی مسبوق دوسرے مسبوق کی امامت نہیں کرسکتا۔ البتہ حنابلہ اور شوافع کے نزدیک جمعہ کے علاوہ دوسری نمازوں میں مسبوق امامت کر سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1198،رشیدیہ)
والخلاصۃ ان الحنفیۃ والمالکیۃلایجیزون الاقتداء بمن کان مقتدیا بعد سلام امامہ ویصح عند الشافعیۃ والحنابلۃ
وکذافی کتاب الفقہ:(1/356،حقانیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/356،حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(1/92،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/356،حقانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1197،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/1197،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:64

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔