سوال

اگر ایک آدمی والدین سے لڑائی جھگڑا کرکے اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی اور شہر میں چلا گیا ہو ، اور اس لڑائی کی جڑ اس کی بیوی ہو ، بعد میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا اورمیراث میں اس کا بھی حصہ تھا جو اسے مل گیا یعنی والد کے گھر میں تمام بہن بھائیوں کا نام رجسٹرڈ ہوگیا تھا ۔ پھر وہ شخص بیرون چلاگیا اور اس کے تین بچے اور بیوی اسلام آباد میں تھے اور والد کی وراثت والا گھر کسی دوسرے شہر میں تھا جس میں اس کی والدہ اور دوسرے بہن بھائی تھے۔ پھر اس شخص کی اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے صلح ہوگئی ، لیکن بیوی کی نہیں ہوئی ۔ پھر اس شخص نے بیرون سے اپنی والدہ کو رقم بھیجی کہ وہ اس کے لیے پلاٹ خریدے ۔ اس کی والدہ نے وہ پلاٹ اپنی مطلقہ بیٹی کے نام سے پاکستان میں خریدا تاکہ بعد میں اس کی بیوی کوئی مسئلہ نہ پیدا کردے ، اس بات کا اس شخص کو بھی پتہ تھا ، لیکن اس نے اپنی مطلقہ بہن کو حق ملکیت نہیں دیا تھا اور والدہ سے کہا تھا کہ جب وہ پاکستان آئے گا تو قانونی طور پر اسے اپنے نام کروائے گا لیکن اب اس شخص کا پاکستان آکر انتقال ہوچکا ہے ۔ والد کی باقی وراثت میں اس کے بیوی بچے اپنا حصہ لے چکے ہیں کیونکہ قانوناً وہ گھر ان کے والد کے تھے ۔ لیکن اب (1)کیا اس پلاٹ پر بہن کا حق ہے جس کے نام پر وہ پلاٹ خریدا گیا ؟ (2)کیا وہ اس پلاٹ کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال کرسکتی ہے ؟ (3)اس شخص کی والدہ اور بہن بھائیوں کی خواہش ہے کہ یہ پلاٹ مرحوم کے بیوی ،بچوں کو نہ دیں ؟ (4) کیا اس پلاٹ پر درس بناکر مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ کیا جاسکتا ہے ؟ (5)اور کیا اس کی بہن کی وفات کے بعد (جوکہ مطلقہ ہے اور کوئی اولاد بھی نہیں) یہ پلاٹ اس کے ترکہ میں شامل ہوگا ؟ مرحوم کے بیوی بچے چونکہ شرپسند ہیں اور اس کے بہن بھائیوں کو ان سے اپنی عزت ، جان اور مال کا بھی خطرہ ہے کیونکہ مرحوم کی وفات کے بعد اس کی بیوی اور بچوں نے مرحوم کے بہن بھائیوں پر قتل کا مقدمہ کردیا تھا جس پر بہن بھائیوں کو شدید ذہنی، جسمانی اور مالی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ بہن بھائی بالکل بےقصور تھے اورمرحوم کے بچے اپنے والد کی قبرکشائی پر بضد تھے ۔ اور والدہ سے مرحوم نے تین لاکھ قرض بھی لیا تھا جو اس نے واپس نہیں کیا اور وفات کے بعد وارثین بھی نہیں دیا ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

مرحوم نے وقتی ضرورت یا مصلحت کے پیش نظر پلاٹ اپنی بہن کے نام لگوایا ، مالک بنانا مقصود نہ تھا ، لہذا اس پلاٹ پر بہن کا حق نہیں ، بلکہ مرحوم ہی اس کا مالک تھا ۔(2)بہن اس کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال نہیں کرسکتی۔(3)بہن بھائی مرحوم کے بیوی، بچوں کو اس پلاٹ سے محروم نہیں کرسکتے۔(4)چونکہ یہ پلاٹ بہن کی ملکیت نہیں ہے ، اس لیے اس کے مرنے کے بعد اس کا ترکہ شمار نہیں ہوگا ۔(5)مرحوم کے وفات پاتے ہی چونکہ یہ پلاٹ ورثاء کی ملکیت میں آچکا ہے ، اس لیے ان کی رضامندی (جبکہ وہ تمام بالغ ہوں)کے بغیراس پلاٹ یا اس کی قیمت کو صدقہ،خیرات وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ہے ۔
البتہ اگر مرحوم اپنی والدہ کا مقروض تھا ، تو والدہ اپنے قرض کے بقدر پلاٹ کاحصہ یا رقم لے سکتی ہیں ۔

لما فی الدر المختار:(6/463،سعید)
اعلم ان اسباب الملک ثلاثۃ ناقل کبیع وھبۃ وخلافۃ کارث واصالۃ وھو الاستیلاء حقیقۃ …او حکمابالتھیئۃ
وفی ردالمحتار:(4/508،سعید)
الثالثۃ ، لوکان مقبوضا فی ید المشتری امانۃ لایمکہ بہ
وفی الھدایة:(3/360،رحمانیہ)
ویباع فی الدین النقود ثم العروض ثم العقار یبدا بالایسر فالایسر لما فیہ من المسارعۃ الی قضاء الدین مع مراعاۃ جانب المدیون
وفیہ ایضاً:(4/651،رشیدیہ)
ولاتجوز بمازاد علی الثلث ……الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم
وکذافی الھندیة:(3/567،رشیدیہ)
وکذافی شرح الاشباہ والنظائر:(3/133،ادارةالقرآن)
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/279،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(5/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:177

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔