سوال

ہارون کے بارے میں احمد نے گواہی دی کہ اس نے میر ے رو برومنگل کے دن اپنی بیوی کو طلاق دی اور عبد الحسیب کہتا ہیکہ ہارون نے میرے سا منے اپنی بیوی کو اتوار کے دن طلاق دی ہے ۔جبکہ ہارون طلاق دینے سے منکر ہے ۔کیا طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اگر دونوں گواہ عادل ہیں توان کی گواہی معتبر ہے ، طلا ق واقع ہو جائیگی ۔

لما فی المحیط البر ھانی :(3/158،دار احیاء تر اث)
أو اختلفا فی المز مان و فی المکان ،بأن شھد احد ھما أنہ طلقھا یوم (الجمعۃ وشھد الآ خر أنہ طلقھا یوم السبت ، …تقبل شھاد تھما
وفی الھند یة :(3/508،رشید یة)
و کذ لک فی الطلاق و لو شھد أحد ھما أنہ طلقھا الیوم واحد ۃ و الآ خر أ نہ طلقھا أمس …جازت شھاد تھما و لا تبطل الشھا دۃ با ختلاف الشا ھد ین فیما بینھما فی الایام و البلد ان
وفی المبسو ط :(6/147،دار المعر فة)
و اذا شھد شاھدان علی رجل أنہ طلق امرأ تہ ثلا ثا و جحد الز وج و المرأ ۃ ذلک فر ق بینھما
وکذافی التا تا ر خا نیة:(5/116،فارو قیة)
وکذا فی الو لوا لجیة:(2/98،الحر مین)
وکذا فی الخا نیة :(5/478،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنا ئع:(5/420،رشید یة)
وکذا فی فتح القد یر:(7/414،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:16

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔