الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئو لہ میں اگر یہ شخص واقعتاً معذو ر ہے تو اس کی بیو ی اس کے با ل صاف کر دے یا کوئی اور شخص ہاتھ پر دستانہ پہن کر اور نطر کی حتی الا مکان حفا ظت کر تے ہوئے اس کے بال صاف کر سکتا ہے ، ایسے معذور کے لیے یہ بھی جا ئز ہے کہ وہ بال صفا پوڈر خود یا دوسرے کی مدد سے استعمال کرے ۔
لما فی المبسوط :(10/156،دار المعر فة)
اذا جاء العذر فلا بأس بالنظر الی العو رۃ لا جل الضرورۃ فمن ذلک ان الخاتن ینظر ذلک الموضع والخا فضۃ کذ لک تنظر لأن الختان سنۃ وہو من جملۃ الفطرۃ فی حق الر جال
وفی خلا صة الفتاوی :(4/440،رشیدیة)
ولا یجوز النظر الی العورۃ الا عند الضرورۃ و ہی الا حتقان والختان والمداواۃ والولاد ۃ و البکا رۃ فی العنۃ و الر د با لعیب
وکذافی فتح الباری :(10/422،قد یمی)
وکذا فی الھند یة:(5/358،رشید یة)
وکذا فی التاتار خانیة:(18/213،فارو قیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/375،رشید یة)
وکذا فی المو سو عة الفقھیة :(29/235،علوم اسلا میة)
واللہ اعلم بالصو اب
عبد الوہا ب غفر لہ ولوالد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:170