سوال

خلوت سے معلوم ہوا کہ شوہر نامرد ہے تو عورت اس سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہے ، اگر وہ طلاق دے دے تو عورت پر عدت ہوگی ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اس صورت میں بھی عورت پر عدت لازم ہوگی ۔

لما فی الفقہ الا سلامی وادلتہ:(9/7056،رشید یة)
وإن كان التفریق بعد الدخول أو بعد الخلوۃ، فتجب العدۃعلى المرأۃ إذا أقر الزوج أنہ لم یصل إلیھا،ویجب لھا المھركلہ إن دخل بھا أو خلا بھاخلوۃ صحیحۃ ؛ لأن خلوۃ العنین صحیحۃ تجب بھا العدۃ
وفی الھدایة:(2/400،رشید یة)
وإذا كان الزوج عنینا أجلہ الحا کم سنۃ …ولھا کمال مھر ھا ان کان خلابھا فان خلوۃ العنین صحیحۃ ویجب العدۃ
وفی بدائع الصنائع :(2/632، رشید یة)
ولنا إجماع الصحابۃ رضی اللہ عنھم فانہ روی عن عمر رضی اللہ عنھ أنہ: (قضی فی العنین أنہ یؤجل سنۃ، فإن قدر علیھاوإلا أخذت منہ الصداق كاملا )وفرق بینھما وعلیھا العدۃ
وکذافی الھندیة :(1/524، رشید یة)
وکذا فی التاتارخانیة :(4/320،فاروقیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/214،الطارق)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/238،دار احیاءتراث)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/637،المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:106

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔