الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئو لہ میں اگر فجر کی صرف سنتیں رہ جائیں تو بہتر یہ ہے کہ طلو ع کے بعد زوال سے پہلے پہلے پڑھ لی جائیں کیو نکہ روایات میں ان کی بہت تا کید آئی ہے ،البتہ یہ نفل شمار ہو نگے ،اور ظہر کی رہ جانے والی پہلی سنتو ں کی فرض کے بعد ادائیگی میں تو اتفاق ہے ،اور سنت یا نفل ہونے میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ سنتیں شمار ہونگی ۔
لما فی رد المحتار :(2/57،سعید)
قولہ ولا یقضیھا الا بطر یق التبعیۃ الخ )ای لا یقضی سنۃ الفجر الا اذا فاتت مع الفجر فیقضیھا تبعا لقضائہ لو قبل الزوال ، ومااذا فا تت وحد ھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع ، لکرا ھۃ النفل بعد الصبح .وأما بعد طلو ع الشمس فکذ لک عند ھما …وقال الخلاف فی أنہ لو قضی کان نفلا مبتدأ او سنۃ ، کذا فی العنا یۃ یعنی نفلا عند ھما سنۃ عند ہ.
وفی البنایة:(2/685،رشید یة)
لأن عائشۃ رضی اللہ عنھا روت ان علیہ السلام فاتتہ الأربع قبل الظہر فقضا ھا بعد ہ… ثم اختلفوا ھل یکو ن الأربع الذی یقضیہ بعد الظھر فی الو قت ھل تکون سنۃ او نفلا مبتدأ… وقیل یکون سنۃ وھو قول صاحبیہ و ھو الأظھر
وکذافی التاتار خانیة:(2/302،فارو قیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/58،سعید)
وکذافی البحر الر ائق:(2/132،رشید یة)
وکذافی المحیط البر ھانی :(2/234،دار احیاء تراث)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/300،رشید یة)
وکذافی ملتقی الأبحر :(1/211،المنار)
وکذافی فتح القد یر :(1/292،رشید یة)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2020/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:200