سوال

بعض اوقات والدین اپنی بچی کو ڈاکٹر کے پاس لاتے ہیں کہ یہ غفلت کے نتیجے میں حاملہ ہو چکی ہے،اس کا بچہ ضائع کر دیں۔کیا ڈاکٹر کے لیے یہ حمل ضائع کرنا درست ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اگر حمل میں روح پڑ چکی ہو یعنی حمل کو چار ماہ گزر گئے ہوں تو حمل ضائع کرنا جائز نہیں ہے اور گناہ کے کام میں ان کی معاونت ہے اور اگر چار ماہ سے کم عرصہ گزرا ہو تو پھر حمل ضائع کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدة:2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
وفی الفقه الاسلامی و ادلته:(4/2647،رشیدیة کوئٹہ)
يباح الإسقاط بعد الحمل، ما لم يتخلق منه شيء، ولن يكون ذلك إلا بعد مئة وعشرين يوماً؛ لأنه ليس بآدمي. وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق: نفخ الروح. وقيل عندهم: إن ذلك مكروه بغير عذر
وفی الدر المختار مع رد المحتار:(3/176،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر
قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة
وکذافیه ایضاً:(6/429، ایچ.ایم سعید کراچی)
وکذافی الھندیة:(5/356، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الھندیة:(1/335، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/376، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(6/374، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/410، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:82

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔