الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں اگر موجود لکڑی یعنی ڈھیر وغیرہ کوبیچنا مقصود ہو،وزن کا ذکر صرف اندازے کے لیے ہو اور کسی قسم کا دھوکہ اور غلط بیانی نہ ہو تو اس خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں اور اگر وزن ہی کو بنیاد بنایا جائے تو جب تک وزن پورا نہ کر لیا جائےتو یہ معاملہ جائز نہیں ہو گا۔
لما فی الھدایة:(3/21،رحمانیہ لاھور)
والاعواض المشار الیہا لا یحتاج الی معرفۃ مقدارھا فی جواز البیع لان بالاشارۃ کفایۃ فی التعریف،وجھالۃ الوصف فیہ لا تفضی الی المنازعۃ
وفی فقه البیوع :(1/371،معارف القرآن کراچی)
اما معرفۃ مقدار المبیع،فشرط لصحۃ البیع ان کان البیع بمقدار،بان یقع البیع کیلا،او وزنا،او عددا فیجب ان یعرف مقدار المبیع.اما اذا وقع البیع بالاشارۃ او بالتعیین،فلا یجب معرفۃ المقدار. مثال الاشارۃ ان یقول البائع :”بعت منک ھذا القطیع من الغنم ،او ھذہ الصبرۃ من الطعام بکذا” ولا یعرف عددالغنم فی الاول،وکیل الطعام او وزنہ فی الثانی،جاز البیع،وھو ما یسمی “البیع مجازفۃ
وکذافی الھدایة:(3/79،رحمانیة لاھور)
وکذافی کنز الدقائق:(247،حقانیة ملتان)
وکذافی شرح المجلة:(2/88.89.90،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(4/529.530،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی البحر الرائق:(5/454.456.457،رشیدیہ کوئٹہ)
واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:84