سوال

صحیح اسلامی لباس کونسا ہے ؟ کوئی متعین لباس ہے یا ہر علاقہ کے اعتبار سے مختلف ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت میں لباس کا کوئی متعین حلیہ مقرر نہیں کیا گیا،بلکہ لباس کے سلسلہ میں مقررہ اصول دیئے گئے ہیں،مثلاً1:ستر کو چھپانے والا ہو۔2:ڈھیلا ڈھالا ہو کہ اعضاء کی بناوٹ ظاہر نہ ہو۔3:اتنا باریک نہ ہو کہ ستر نظر آئے۔4:کفار اور فاسق وفاجر لوگوں کی مشابہت مقصود نہ ہو۔5:ریا اور تکبر کے لیے نہ پہنا جائے۔
لہذا ان اصولوں پر پورا اترتا ہوا لباس شرعی لباس ہوگا۔

لما فی تکملة افتح الملھم:(4/87.88،دار العلوم کراچی)
فان الاسلام لم یقصرہ علی نوع دون نوع،ولم یقرر للانسان نوعا خاصا،او ھیئۃ خاصۃ من اللباس،ولا اسلوبا خاصا للمعیشۃ،وانما وضع مجموعۃ من المبادیٔ والقواعد الاساسیۃ یجب علی المسلم ان یحتفظ بھا فی امر لباسہ،ثم ترکہ حرا فی اختیارما یراہ من انواع الملابس،…….فمن مقدمۃ ھذہ المبادیٔ ان اللباس یجب ان یکون ساترا لعورۃ الانسان،…… وان اللباس الذی یخل بھذا المقصد……فیحرم علی الانسان استعمالہ.فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورۃ الرجل والمراۃ،لا تقرہ الشریعۃ السلامیۃ،مھما کان جمیلا،او موافقا لدور الازیاء.وکذلک اللباس الرقیق اواللاصق بالجسم الذی یحکی للناظر شکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ،فھو فی حکم ما سبق فی الحرمۃ وعدم الجواز.والمبدء الثانی:ان اللباس انما یقصد بہ الستر والتجمل…….واما مایقصد بہ الخیلاء،والکبر او الاشروالبطر او الریاء،فھو حرام……والمبدء الثالث:ان اللباس الذی یتشبہ الانسان باقوام کفرۃ،لایجوز لبسہ لمسلم اذا قصد بذلک التشبہ بھم
وفی الموسوعة الفقھیة:(6/128.129،علوم اسلامیہ چمن)
استعمال اللباس تعتریہ الاحکام الخمسۃ:فالفرض منہ:مایستر العورۃ ویدفع الحر والبرد،…..والمنداب الیہ او المستحب:ھو ما یحصل بہ اصل الزینۃ واظھار النعمۃ،…….ومن المندوب اللبس للتزین،ولا سیما فی الجمع والاعیاد ومجامع الناس،……والمکروہ :ھواللباس الذی یکون مظنۃ للتکبر والخیلاء،……والحرام:ھو اللبس بقصد الکبر والخیلاء
وکذافیه ایضاً:(6/128.129.136.137،علوم اسلامیہ چمن)
وکذافی البحر الرائق:(2/18،رشیدیہ کوئٹہ) وکذافی صحیح البخاری:(2/383،رحمانیہ لاھور)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/388،رحمانیہ لاھور) وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/155،التجاریہ مکة المکرمہ)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:87

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔